خبر نہ ہو
Poet: Nadim Sarwar By: Mohammad Nadim Sarwar, LahoreKabhi Youn Bhi Aa Meri Aankh Main K Meri Nazar Ko Khabar Na Ho
Mujhe Ek Raat Navaaz Dey Magar Uskey Baad Sehar Na Ho
Wo Bara Rahim-O-Karim Hai Mujhey Ye Sifaat Bhi Ataa Karey
Tujhey Bhulaney Kii Duaa Karon To Duaa Main Meri Asar Na Ho
Mere Baazuon Main Thaki Thaki, Abhi Mehaw-E-Khwaab Hai Chaandni
Na Uthay Sitaaron Ki Paalki, Abhi Aahaton Kaa Guzar Na Ho
Ye Ghazal Ki Jaisey Hiran Ki Aankhon Main Pichhali Raat Ki Chaandni
Naa Bujhey Kharaabe Ki Roshani, Kabhi Becharaagh Ye Ghar Na Ho
Wo Firaaq Ho Yaa Visaal Ho, Teri Yaad Mehkegi Ek Din
Wo Gulaab Ban K Khilegaa Kya, Jo Chiraagh Ban K Jalaa Na Ho
Kabhi Dhoop Dey, Kabhi Badliyaan, Dil-O-Jaan Se Dono Qabool Hain
Magar Us Nagar Main Na Qaid Kar Jahaan Zindagi Ki Hawaa Na Ho
Kabhi Din Ki Dhoop Main Jhoom K Kabhi Shab K Phool Ko Choom K
Youn Hi Saath Saath Chalein Sadaa Kabhi Khatam Apanaa Safar Na Ho
Mere Paas Mere Habeeb Aa Zaraa Aur Dil K Qareeb Aa
Tujhe Dharkano Main Basaa Loon Main K Bichharnay Ka Kabhi Dar Na Ho
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔







