دردِ ہجراں کے یہ لمحات سزا دیتے ہیں
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaدردِ ہجراں کے یہ لمحات سزا دیتے ہیں
چشم کے بحر سے ہم پانی گرا دیتے ہیں
راز تھی بات مگر تم کو بتا دیتے ہیں
جل کے جذبات بھی انساں کو جلا دیتے ہیں
مل کے معصوم نگاہوں سے زمانے والو
زخم ہر بار حسیں لوگ نیا دیتے ہیں
حال کچھ ایسا ہے ان تیرہ شبوں میں اپنا
تجھ میں کھو جاتے ہیں اور خود کو بھلا دیتے ہیں
خود بھی جل جاتے ہیں کچھ آگ لگانے والے
وہ تو پاگل ہیں جو شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
شدتِ کرب سے بھٹکے ہوئے کچھ دیوانے
عقلِ انسانی کے طائر بھی اڑا دیتے ہیں
اکثریت میں نظر آتے ہیں پچھتاتے ہی
وقت ہاتھوں سے جو اک بار گنوا دیتے ہیں
جب سے احساس نے امیدیں جگائیں ضیغم
غم تھپکتے ہیں انہیں اور سلا دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






