دعا کا طالب ہو کر رہ گیا ہوں میں
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonسنوارتے سنوارتے زلف تیری
خود الجھ کر رہ گیا ہوں میں
بناتے بناتے تصویر تیری
بیرنگ وبےذوق ہو گیا ہوں میں
یہ کس مقام پر آ گیا ہوں میں
یہ کیا سے کیا ہو گیا ہوں میں
مناتے مناتے تم کو تم سے
خود روٹھ کر رہ گیا ہوں میں
لکھتےلکھتے قصیدے تیرے
خود سیاہی بنکربکھر گیا ہوں میں
یہ کس مقام پرآ گیا ہوں میں
یہ کیا سے کیا ہوگیا ہوں میں
تعریف اور کیا کروں تیری
لفظوں میں گم ہوگیا ہوں میں
یہ کیسی تپسیا ہے میری
خواہش پر اپنی نادم ہوگیا ہوں میں
یہ کس مقام پر آ گیا ہوں میں
یہ کیا سے کیا ہوگیا ہوں میں
نہ رہی وفا کی تمنا باقی
مقام کیا نام ہی بھول گیا ہوں میں
دعا میں اپنی کیا مانگوں تیرے لیے
خود دعا کا طالب ہوکررہ گیا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






