دل کی روشنی

Poet: Saud Ilyas By: Saud Ilyas, Lahore

تیری خوبصورت مسکان، میرے دل کو چھو جاتی ہے
دل کی خوشی، روشنی کی احساس، تیرے نام سے محو ہو جاتی ہے

میری آنکھوں کا تارا، تو ہی میری خوابوں کی روشنی
جب بھی تو نظر آتی ہے، دنیا کی ہر روشنی چھو جاتی ہے

تو میری آواز ہے، دل کی لہر، میرے دل کی تھاہک
محبت کی کہانیاں، تیری باتوں میں زندہ ہو جاتی ہیں

جیون کا رنگ بدل گیا، جب تو میری زندگی میں آئی
تو ہی میری منزل، تو ہی میرا مقصد، تیرے بغیر کچھ بھی نہیں باقی

دل کے کناروں پر ہر لمحہ تیرا چہرہ مسکانی لے آتا ہے
تیرے بغیر دل کی آنکھوں میں خواب نہیں آتا ہے

میں تیرے لئے روشنی کی باتیں لکھتا ہوں، احساسات کو بیان کرتا ہوں
تو میرے دل کی دھڑکنوں میں بسی ہے، تو ہی میری زندگی کی پہچان ہے

اس شعر میں تیرے نام کو بسایا، میرے دل کے ہر حصے میں روشنی پھیلائی
میں تیرے دل کا مسافر ہوں، اپنی زندگی کو تیری دلکشی سے محرم کیا

Rate it:
Views: 475
16 May, 2023
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL