رخ سے اپنے حجاب رہنے دو
Poet: By: AB Shahzad, Mailsiرخ سے اپنے حجاب رہنے دو
حسن اپنا شباب رہنے دو
وقت دو تم حساب رہنے دو
ہاتھ میں اب کتاب رہنے دو
دل کسی کا دکھانا اچھا نہیں
مت یہ توڑو گلاب رہنے دو
ہجر غم کرب اچھا لگتا ہے
اب رمق بھر عذاب رہنے دو
راس آتی نہیں شرافت اب
طنطنہ اب جناب رہنے دو
آیا مشکل ہے جو پسند مجھے
میرا اب انتخاب رہنے دو
کر بھلائی غریب سے رہا ہے
کیا ہے اچھا ثواب رہنے دو
چھوڑنا اب نہیں کبھی تم نے
ہے حسیں ماہتاب رہنے دو
وقت کے ساتھ ساتھ چلتے رہو
آنکھوں میں کچھ یہ خواب رہنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






