چلو پھر ایسا کرتے ہیں کہ کچھ دن روٹھ جاتے ہیں

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

چلو پھر ایسا کرتے ہیں
کہ کچھ دن روٹھ جاتے ہیں
ذرا محسوس کرتے ہیں
لہو بن دھڑکنیں کیسی؟
بنا رنگوں کے گل کیسا
گلوں بن تتلیاں کیسی؟
سمندر کیا بنا پانی
ہوا بن آندھیاں کیسی؟
لگن کیسی ،جنوں کیسا
فضائے لامکاں کیسی
زمیں پر بحر و بر کیسے
فلک پر کہکشاں کیسی؟
زرا محسوس کرتے ہیں
کہ ہم بن زندگی کیسی؟
قمر میں روشنی کیسی
سحر میں تازگی کیسی؟
چلو پھر ایسا کرتے ہیں
ذرا محسوس کرتے ہیں
کہ میرے لمس کو زلفیں
تیری کیسے ترستی ہیں
دلوں کو ناگ بن بن کر
یہ یادیں کیسے ڈستی ہیں
عجب نایافتی کا ڈر
ذہن میں کیسے آتا ہے؟
کسی کے ہجر میں کیسے
زمانہ روٹھ جاتا ہے
مگر اس روٹھ جانے میں
جنوں کو آزمانے میں
کبھی شامل یہ دل نہ ہو
ہجر کی تلخ کیفیت
میری جاں مستقل نہ ہو
چلو پھر ایسا کرتے ہیں
کہ کچھ دن روٹھ جاتے ہیں
 

Rate it:
Views: 3456
16 May, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL