یہ آنسوؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری(دوگانا)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آنسؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری


بچھڑ کے تم سے اندھیروں میں اب بھٹکتی ہوں
تمھارا نام میں لیتی ہوں اور سسکتی ہوں

جو ختم ہو نہ کبھی ایسی اک سزا ہے مری
یہ آنسوؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری

لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تم سے دور ہوں اب زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری


تمھاری دور سے آتی صدائیں سنتا ہوں
تمام رات یہاں کروٹیں بدلتا ہوں

جدائی ختم ہو رب سے یہی دعا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری


لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آنسوؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری


لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تم سے دور ہوں اب زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری

Rate it:
Views: 719
29 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL