سنگھار زہرِ ہلاہل ہے سادگی کیلئے

Poet: NADEEM MURAD By: ندیم مراد, umtata RSA

سنگھار زہرِ ہلاہل ہے سادگی کیلئے
کہ عشق میں ہے یہ ہی حُسن ساحری کیلئے

ہزار چاہنے والے بھی اجنبی سے لگیں
وہ دل میں ہوک اٹھی ایک اجنبی کیلئے

یہ وہ زمانہ نہیں جب فقط جنوں تھا اہم
کہ اب خرد بھی ضروری ہے عاشقی کیلئے

نشہ برا ہے مگر اسقدر برا بھی نہیں
کہ اب خمار بھی لازم ہے زندگی کیلئے

ہے میرے دامنِ دلداریءجنون میں کیا
ہے کچھ خدائی بھی درکار بندگی کیلئے

جو کرتے آئے ہیں دانشوری کی باتیں وہ
جنون مانگتے پھرتے ہیں شاعری کیلئے

میں تنہا سہ لوں یہ اچھا ہے دکُھ نہ بانٹوں گا
کسی کی آنکھ کروں نم بس اک خوشی کیلئے

چراغِ عالمِ افروز کا کریں گے کیا
بس اک دیا ہے بہت گھر میں روشنی کیلئے

ابھی تو خود سے بھی واقف نہیں ہوا ہوں میں
اک عمر گزری بھٹکتا ہوں آگہی کیلئے

دکھائی دیں گل و گلزار کاغزی سے ندیم
جو آج پاس نہیں تم شگفتگی کیلئے

Rate it:
Views: 1499
09 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL