سنگھار زہرِ ہلاہل ہے سادگی کیلئے
Poet: NADEEM MURAD By: ندیم مراد, umtata RSAسنگھار زہرِ ہلاہل ہے سادگی کیلئے
کہ عشق میں ہے یہ ہی حُسن ساحری کیلئے
ہزار چاہنے والے بھی اجنبی سے لگیں
وہ دل میں ہوک اٹھی ایک اجنبی کیلئے
یہ وہ زمانہ نہیں جب فقط جنوں تھا اہم
کہ اب خرد بھی ضروری ہے عاشقی کیلئے
نشہ برا ہے مگر اسقدر برا بھی نہیں
کہ اب خمار بھی لازم ہے زندگی کیلئے
ہے میرے دامنِ دلداریءجنون میں کیا
ہے کچھ خدائی بھی درکار بندگی کیلئے
جو کرتے آئے ہیں دانشوری کی باتیں وہ
جنون مانگتے پھرتے ہیں شاعری کیلئے
میں تنہا سہ لوں یہ اچھا ہے دکُھ نہ بانٹوں گا
کسی کی آنکھ کروں نم بس اک خوشی کیلئے
چراغِ عالمِ افروز کا کریں گے کیا
بس اک دیا ہے بہت گھر میں روشنی کیلئے
ابھی تو خود سے بھی واقف نہیں ہوا ہوں میں
اک عمر گزری بھٹکتا ہوں آگہی کیلئے
دکھائی دیں گل و گلزار کاغزی سے ندیم
جو آج پاس نہیں تم شگفتگی کیلئے
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






