شبِ تنہائی
Poet: زویراملک By: Zavaira Malik, Rawalpindiشبِ تنہائی کے اندھیرے
ان لمحوں میں
اب کہ یوں ہے جاناں
کہ
بے جان سسکیاں
لبوں پہ دم توڑ رہی ہیں
کہ اب کے جاناں
تیری یادوں کی زنجیروں سے
آزاد جیسے موت کی دہلیز کو پار کررہی ہوں
کہ اس شبِ تنہائی کی تاریکی
میرے بےجان وجود کی رگ و پے میں
سرایت کر تی ایسے رقصاں ہے
کہ جیسے صدیوں سے یہ یہاں کی مکیں ہو
کہ شبِ تنہائی کی ان گھڑیوں میں
اب کہ جاناں
آنکھوں نے جیسے پتھر ہونا سیکھ لیا ہو
کہ اب کہ اس شبِ تنہائی میں
دل نے جیسے مرنا سیکھ لیا ہو
کہ اب کے جاناں
وحشتوں کی ان گھڑیوں میں
تجھے بھولنے کا
کوئی بہانہ سیکھ لیا ہو
کہ اب کی اس
شبِ تنہائی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






