شہ..............!!!!!!!!!!! مجھے نہ بتانا

Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahore

سچ بتانا کیا یاد آتی ہوں میں
سرد ہواؤں کے معصوم تھپیڑوں میں
گرم ہواؤں کے جھکڑو میں
برسات کی بوندوں میں .... بہار کے پھولوں میں
کانٹوں کی چبھن میں.... آہ و فغاں میں
مست ہوا میں تاروں میں کرن میں
چاند کی تازگی.... سورج کی تپش میں
چاپوں کی صد ا میں.... منزلو ں کے نشان میں
شہ.... مان لیا یاد اتی ہی نہیں میری
کوئی بھی عالم ہو کوئی بھی موسم ہو
وقت بھلا جو بھی ہو
مگر ذرا غور سے سن لو
ہاتھ دھرو دل پہ نظر روح پہ رکھ لو
جو بھی ہے.... جیسا بھی ھے
مان لیا!!! مجھے نہ اسکا مگر پتہ دینا
سوئےہوئےسارے گھاؤ میرے
بجھے ہوئے دکھوں کے سارے الاؤ میرے
ادھیڑ کرزخم وہ... جلا نہ دینا
میں حماری سی... پگلی سی... مردہ جان!!!
خوش فہمی کی تازہ قبر پہ
ماتم و نوحہ و کنعاں سی غافل
خوشگمانی کے کفن میں لپٹی... زندہ ہوں
بھرم رکھنا اس لاش کا
علم نہ ھو مجھکو
دفن کرنا میرے ماضی کو
اور شہ .........!!!! مجھے بھول جانا تم

Rate it:
Views: 684
15 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL