عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کر

Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachi

عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کر
کیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کر

جانے یہ کیسی شرارت آج سوجھی ہے اسے
وہ مجھے اڑنے کو کہتی ہے مرے پر کاٹ کر

جب بھی میں ہمت جٹا کر کرتا ہوں اظہار عشق
بولنے لگتی ہے پگلی بات اکثر کاٹ کر

کتنی آسانی سے کرتے ہیں وہ پوری خواہشیں
مائی پتھر دل پہ رکھ کر بابا پتھر کاٹ کر

آج پھر پیچھے پڑا ہے قافلہ فرعون کا
اے مرے رہبر بنا رستہ سمندر کاٹ کر

اے عطاؔ ظاہر تو کر بے چینیوں کے راز کچھ
لکھ رہا ہے نام کس کا تو برابر کاٹ کر
 

Rate it:
Views: 144
04 Apr, 2025