غم کیسا آیا
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanیہ غم کیسا آیا میری آنکھوں میں جو نم لایا
چاہت میں یہ پُر خطر موڑ پر کیوں آیا
ملنے سے پہلے ہی اس قدر کیوں دور ہو گےَ
ہماری ملاقات میں اس قدر فاصلہ کیوں حائل آیا
ہیں جسم الگ ہمارے پر روح تو الگ نہیں
فاصلہ ہے اگرچہ درمیان پر دل تو دور نہیں
میری پلکیں نم ہیں لیکن دل تو نااُمید نہیں
دیدار ہونے سے پہلے جُدائی کا موسم پھر کیوں اُمنڈ آیا
تیری صورت روشنی کی طرح میری آنکھوں میں بسی ہے
میرے لاغر جسم میں تجھ سے ملنے کی خواہش ہی زندگی ہے
راستے پر نظریں لگائے کھڑا ہوں کبھی تو پیار کی گھٹا چھائے گی
ملنے سے پہلے ہی بچھڑنے کا موسم پھر کیوں میرے دلدار آیا
لگتا ہے آرام کی نیند اب تو میری قسمت میں ہی نہیں
چل دوں گا دنیا سے تیرے ملنے سے پہلے ہی
تیری جُدائی کا زہر پینے کی اب میرے جسم میں سکت ہی نہیں
ذوالفقار زندگی کی شمع بجھنے پر اُن کا خیال پھر کیوں آیا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






