لب گلابی پہ تیرے حسنِ دنیا سمائی
محبت کا دل کیوں مجھ سے لگائی
ہر پل تیرا خواب آنکھوں میں جگتے
ایسی چاہت کی نیند کیوں تو لگائی
نہ قیمت ہی کوئی میری تجھ نظر میں
عظمت کی ایسی شمع کیوں جلائی
وفا نہ کی تو نے مجھ سے کبھی بھی
رقیبوں سے پھر حمد میری کیوں گائی
پریشاں ہے صفیہ یہ کیسا ہے شیوہ
نہ نفرت ہے چاہت کیوں تو چھپائی