لبوں کی سرسراہٹ
Poet: Muhammad Owais By: Muhammad Owais, Lahoreلبوں کی سرسراہٹ سے
بدن کے چور ہونے تک
میں تجھ کو اس طرح سے چاہوں
کہ تیری سانس رک جائے
خطاؤں پر خطائیں ہوں
نہ ہو کچھ بات کہنے کو
میں تجھ میں یوں سما جاؤں
کہ تیری سانس رک جائے
نہ ہمت تجھ میں ہو باقی
نہ ہمت مجھ میں ہو باقی
مگر اتنا قریب آؤں کہ
تیری سانس رک جائے
تیرے ہونٹوں پہ رکھوں
اپنے ہونٹ کچھ اس طرح
یا تیری پیاس بجھ جائے
یا میری پیاس بجھ جائے
More Love / Romantic Poetry






