لبِ جو زندگی کی نبض گئی

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

لبِ جو زندگی کی نبض گئی
اپنی تشنہ لبی کی نبض گئی

پاک سے اِک بدن کی خواہش سے
مجھ میں اِک متقی کی نبض گئی

اک محلہ تھا ہو گیا ویران
جب سے دیوانگی کی نبض گئی

شہر سے دشتِ پُرختن کے بیچ
قیس کی بے خودی کی نبض گئی

خاک ہو کر گلی سے جاتے دم
اپنی خوش قسمتی کی نبض گئی

میں ہر اِک یار سے ہوا مایوس
شوقِ وارفتگی کی نبض گئی

اتنا تاریک تھا مکانِ دل
صحن تک چاندنی کی نبض گئی

وقت گویا ٹھہر گیا ہے کہیں
شبِ ہجراں گھڑی کی نبض گئی

طنز نے زہر بھر دیا اندر
زیرِ لب چاشنی کی نبض گئی

مفتیوں! منہ نہیں دکھاؤ مجھے
میری نیکی بدی کی نبض گئی

زرد رنگت تھا جب ملا اُس سے
دم میں سنجیدگی کی نبض گئی

اُس گلی کے خراب حالوں میں
جانے کس آدمی کی نبض گئی

کیا بیاں ہو بھلا ملالِ خار
سرِ بالیں کلی کی نبض گئی

ہے خبر گرم اپنی رحلت کی
سنتا ہوں دوزخی کی نبض گئی

جب تجھے چاک سے اُٹھایا گیا
اُس گھڑی بت گری کی نبض گئی

عقل سے ماوراء رہیں مسکان
کیا سخن! شاعری کی نبض گئی

Rate it:
Views: 531
02 Aug, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL