مجھے اپنے قرب كی رات تو دو
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreاک حسيں رات كی شرارت پر
تم اپنا سب مجھ پر وار تو دو
كبھی خود بھی چلو تم ساتھ ميرے
ان ہاتھوں ميں اپنا ہاتھ تو دو
تمہارے ہر دن كے خيال ميں ھوں
مجھے اپنے قرب كی رات تو دو
سرد رات كی خاموشی ميں
مجھے اپنے ہونٹوں كی پياس تو دو
اپنی صندل بانہيں پھيلا كر
مجھے ان بانہوں كے جذبات تو دو
جس پيار پر خوشبو لہرائے
مجھے اس پيار كی سوغات تو دو
ان آنكھوں سے دل ميں اتر كر
مجھے اس سمندر كی آگ تو دو
جس خمار ميں ھم تم كھو جائيں
تم مجھ كو مكمل وہ رات تو دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







