مجھے تم سے ساجن محبت بہت ہے (گیت)
Poet: Nehal Inayat Gill By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwalaمجھے تم سے ساجن محبت بہت ہے ، میرے دل کو تری ضرورت بہت ہے
کھونے سے تم کو ڈرتی ہوں رہتی ، خدا سے دعائیں کرتی ہوں رہتی
میری کِرن بے نور ہو نہ جائے ، ربا میرا ساجن دور ہو نہ جائے
دن ، رات سجدے کیے میں نے رب کے پھر جا کے تری محبت ملی ہے
میرے دل کے آنگن میں خوشبو پھیلانے تری چاہتوں کی کلی اِک کھلی ہے
میری روح کو مہکا گئی میرے ساجن ، خوشبو ہی خوشبو ہوا سارا جیون
ہنسنے لگی ہوں تری قربتوں میں ، جینے لگی ہوں تری الفتوں میں
کہیں زندگی مجبور ہو نہ جائے ، ربا میرا ساجن دور ہو نہ جائے
مل کے سہیگے زمانے کے سب غم ، کبھی تجھ سے نظریں نہ پھیڑونگی ہمدم
دامن میں ترا نہ چھوڑونگی ساجن ، زمانے کی رسموں کو توڑونگی ساجن
میری زندگی اب ہے تری امانت ، تری ہو گئی تجھ کو دے دی اَجازت
وعدہ کرو تم فقط مجھ سے اتنا ، تنہا نہ چھوڑوگے تم طہ قیامت
اور وعدہ ویکھو چُوڑ ہو نہ جائے ، ربا میرا ساجن دور ہو نہ جائے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






