مجھے تم سے ساجن محبت بہت ہے (گیت)
Poet: Nehal Inayat Gill By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwalaمجھے تم سے ساجن محبت بہت ہے ، میرے دل کو تری ضرورت بہت ہے
کھونے سے تم کو ڈرتی ہوں رہتی ، خدا سے دعائیں کرتی ہوں رہتی
میری کِرن بے نور ہو نہ جائے ، ربا میرا ساجن دور ہو نہ جائے
دن ، رات سجدے کیے میں نے رب کے پھر جا کے تری محبت ملی ہے
میرے دل کے آنگن میں خوشبو پھیلانے تری چاہتوں کی کلی اِک کھلی ہے
میری روح کو مہکا گئی میرے ساجن ، خوشبو ہی خوشبو ہوا سارا جیون
ہنسنے لگی ہوں تری قربتوں میں ، جینے لگی ہوں تری الفتوں میں
کہیں زندگی مجبور ہو نہ جائے ، ربا میرا ساجن دور ہو نہ جائے
مل کے سہیگے زمانے کے سب غم ، کبھی تجھ سے نظریں نہ پھیڑونگی ہمدم
دامن میں ترا نہ چھوڑونگی ساجن ، زمانے کی رسموں کو توڑونگی ساجن
میری زندگی اب ہے تری امانت ، تری ہو گئی تجھ کو دے دی اَجازت
وعدہ کرو تم فقط مجھ سے اتنا ، تنہا نہ چھوڑوگے تم طہ قیامت
اور وعدہ ویکھو چُوڑ ہو نہ جائے ، ربا میرا ساجن دور ہو نہ جائے
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






