مجھے تم یاد آتے ہو
Poet: anam By: anam, karachiتمہیں یاد ہے جاناں
ہماری وہ پہلی ملاقات
کیتنی تھی وہ خوشگوار
جب آنکھیں ہوئیں تھیں تجھ ے چار
کوئی مدہم مدہم سی دھن تھی
دل کے تار چھیڑتی سرگم تھی
موسم بھی تھا بہار کا
سماں بھی تھا پیار کا
وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا پاس آجانا
فقط اک دوسرے کا ہو جانا
کبھی پل روٹھ جانا
دو پل میں مان جانا
تیرا میرے لئے انتظار کرنا
اپنے دل کو بے قرار کرنا
کبھی تکرار کر لینا
کبھی اظہار کر لینا
وفاؤں کے گیت گنگنانا
بلا وجہ مسکراتے جانا
کبھی گلے سے لگ جانا
کبھی دامن میں چھپ جانا
پھر اچانک ہواؤں کا رخ بدل گیا
توں ابنے وعدوں سے مکر گیا
میرے سپنوں کا ٹوٹ جانا
میرا ہستا چمن اجڑ جانا
ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں کا آنکھوں میں چبھنا
دل کا تجھ سے ملاقات کیلئے بہت تڑپنا
تیرا دامن چھوڑا کر چلے جانا
پل میں سب کچھ بکھر جانا
ہستی آنکھوں کو آنسو دے جانا
میرا تجھ سے مینتیں کرنا
رو رو کر تجھے منانا
تیرے دل کا پتھر ہو جانا
مجھ سے بےزار ہو جانا
میرے دل کو توڑ دینا
ہر تعلق مجھ توڑ دینا
مانا کہ سب غلطی میری تھی
محبت میں نے کی تھی
وفا بھی میں نے مانگی
یہ جانتے ہوئے
نہ محبت کسی کی ہوئی ہے
نہ وفا کسی کو ملتی ہے
مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں
مگر
مجھے تم یاد آتے ہو
بہت یاد آتے ہو
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






