مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی
Poet: By: Sajjad Haider, Islamabadنہ راتوں میں خؤد کو جگانا کبھی
نہ سپنوں میں مجھ کو ستانا کبھی
جو یاد آئے بیتے دنوں کی تمہیں
نہ پلکوں سے آنسو گرانا کبھی
وہ کہتا گیا یہ بچھڑتے ہوئے
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی
میں بہکا ہوا جب سنبھل جاؤں گا
تو دنیا تمہاری بدل جاؤں گا
میں رشتوں کے بندھن سبھی توڑ کر
حصار جہاں سے نکل جاؤں گا
یوں نظریں نہ مجھ سے چرانا کبھی
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی
جو ہیں ساتھ اب بچھڑ جائیں گے
یہ ساون کے بادل بکھر جائیں گے
انہیں دل نہ دینا کبھی بھول کر
یہ عہد وفا سے مکر جائیں گے
نہ اوروں کو دل میں بسانا کبھی
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی
جو سایہ بھی تم سے بچھڑنے لگے
پھر آنکھوں میں کاجل بکھرنے لگے
سبھی چھوڑ جائیں اکیلا تمہیں
جب ایسے کبھی شام ڈھلنے لگے
دیے یاد کے نہ بجھانا کبھی
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






