مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی

Poet: By: Sajjad Haider, Islamabad

نہ راتوں میں خؤد کو جگانا کبھی
نہ سپنوں میں مجھ کو ستانا کبھی

جو یاد آئے بیتے دنوں کی تمہیں
نہ پلکوں سے آنسو گرانا کبھی

وہ کہتا گیا یہ بچھڑتے ہوئے
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی

میں بہکا ہوا جب سنبھل جاؤں گا
تو دنیا تمہاری بدل جاؤں گا

میں رشتوں کے بندھن سبھی توڑ کر
حصار جہاں سے نکل جاؤں گا

یوں نظریں نہ مجھ سے چرانا کبھی
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی

جو ہیں ساتھ اب بچھڑ جائیں گے
یہ ساون کے بادل بکھر جائیں گے

انہیں دل نہ دینا کبھی بھول کر
یہ عہد وفا سے مکر جائیں گے

نہ اوروں کو دل میں بسانا کبھی
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی

جو سایہ بھی تم سے بچھڑنے لگے
پھر آنکھوں میں کاجل بکھرنے لگے

سبھی چھوڑ جائیں اکیلا تمہیں
جب ایسے کبھی شام ڈھلنے لگے

دیے یاد کے نہ بجھانا کبھی
مجھے دل سے تم نہ بھلانا کبھی

Rate it:
Views: 765
23 Sep, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL