محبت جاودانی ہے۔۔۔۔۔۔ویلنٹائن ڈے پہ تمہارے لئے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillمحبت کی بھی جاتی ہے
محبت ہو بھی جاتی ہے
کسی کی سوختہ کشتی
بھنور میں کھو بھی جاتی ہے
مگر یہ یک حقیقت ہے
محبت بس محبت ہے
محبت اک ریاضت ہے
محبت اک عبادت ہے
محبت جھک نہیں سکتی
یہ اک ایسی بغاوت ہے
یہ سونی راہگزاروں پر
بھی پیہم چلتی رہتی ہے
دلوں میں درد کی صورت
ہمیشہ پلتی رہتی ہے
نہیں کچھ بھی جہاں میں جو
محبت کر نہیں سکتی
وصل ہو یا غم ہجراں
محبت مر نہیں سکتی
محبت ریگزاروں کو بھی ذوق زندگی دے دے
محبت خاکساروں کو عروج بندگی دے دے
عیاں کر دو حقیقت چاند تاروں کی زمانے پر
اندھیرے میں امیدوں کی بھڑکتی روشنی دے دے
محبت ہی گلابوں میں
محبت ہی کتابوں میں
محبت تھل کی ریتوں پر
محبت ہی چنابوں میں
کبھی یہ نجد میں رقصاں
کبھی وارث کے خوابوں میں
کبھی پھولوں سے رستوں پر کبھی دریا کی مستی میں
کبھی بستی میں تنہائی کبھی تنہائی ہستی میں
کبھی سقراط کی صورت کبھی سرمد کے نعرے بھی
کبھی دیوار میں مدفن کبھی جمنا کنارے بھی
کبھی سیزر قلوپطرہ کے پر ہنگم فسانوں میں
کبھی شاعر کی نظموں میں کبھی موسم کی تانوں میں
محبت زندگانی ہے
محبت جاودانی ہے
نہیں ہے انت ہی جس کا
یہ اک ایسی کہانی ہے
یہ جزبوں کی روانی ہے
سمے کی شادمانی ہے
جہاں کا ہر حسیں جزبہ
اسی کی مہربانی ہے
تو پھت مخمور آنکھوں سے
پیام زندگی دے دو
میری صدیوں کی ظلمت کو
تم اپنی روشنی دے دو
گلابوں کا یہ موسم ہے
گلابوں کو ہنسی دے دو
نہیں کل کی خبر کوئی
یہ موسم آئے نہ آئے
یہ بادل برسیں نہ برسیں
یہ رم جھم چھائے نہ چھائے
زرا ہاتھوں میں دے کر ہاتھ
انکو ہمسفر کر لیں
یہ لمحے بیت نہ جائیں
انہیں آؤ امرکر لیں
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں






