محبت پارٹ 1

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیا

محبت الف لیلہ ہے نہ پریوں کی کہانی ہے
محبت ایسی شے ہے جو امر ہے جاودانی ہے

محبت ہے وہ ملکہ جو دلوں پہ راج کرتی ہے
محبت زندگی میں سو طرح کے رنگ بھرتی ہے

محبت جس کو ہو جائے اڑے وہ آسمانوں میں
بہت تاثر ہوتی ہے محبت کے فسانوں میں

محبت گنگناتی ہے کبھی دل بن کے دھڑکن میں
چہکتی ہے محبت بن کے طائر دل کے گلشن میں

محبت ہوتے ہی دل میں امنگیں جاگ جاتی ہیں
زمانے بھر کی خوشیاں مسکراکر پاس آتی ہیں

محبت کے کرم سے غم کا شعلہ سرد ہوتا ہے
محبت ہوتو دل میں میٹھا میٹھا درد ہوتا ہے

محبت بن کے نغمہ روح کو سیراب کرتی ہے
محبت خشک صحراؤں کو بھی شاداب کرتی ہے

محبت کرنے والا گنگناتا ، مسکراتا ہے
محبت کرنے ولا زندگی کے گیت گاتا ہے

محبت کہتے ہیں جس کو وہ غم کا بھی افسانہ
محبت کرنے والا غم سے ہو جاتا ہے دیوانہ

Rate it:
Views: 460
20 Oct, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL