محبت کے تم ہو دیوتا

Poet: Zafar Ali Zfr By: zafar Ali Zfr, islamabad

وہ کہتے ہیں وال پیپر میری تصویر کا لگایا کرو
میں کہتا ہوں بام پہ سرعام نہ آیا کرو

وہ کہتے ہیں میرے خوابوں میں بسے ہو تم
میں کہتا ہوں میرے رتجگوں میں آیا کرو

وہ کہتے ہیں ہم تیری یادوں میں کھوئے رہتے ہیں
میں کہتا ہوں میرے شانوں پہ زلفیں بکھرایا کرو

وہ کہتے ہیں لاکٹ میں سجی ہے تصویر تیری
میں کہتا ہوں مجھے دھڑکنوں میں بسایا کرو

وہ کہتے ہیں ہماری محبت کے تم ہو دیوتا
میں کہتا ہوں مجھے دل کے مندر میں سجایا کرو

وہ کہتے ہیں میرے قہقوں کا آلارم لگا لو
میں کہتا ہوں مجھے یوں نہ رلایا کرو

وہ کہتے ہیں تیری دید سے وابستہ ہے عید میری
میں کہتا ہوں پھر مجھ سے نہ شرمایا کرو

وہ کہتے ہیں میری سرگوشیوں کا رنگ ٹون بنا لو
میں کہتا ہوں طفر ہر کسی کو راز داں نہ بنایا کرو

Rate it:
Views: 599
22 Apr, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL