یہ دھواں
Poet: Sajjad Sarwar Sahhar By: Sajjad Sarwar, lahoreجب اگلے سال یہ وقت آ رہا ہو گا
یہ کون جانتا ہے کہ وہ کس جگہ ہو گا
یہی جگہ جہاں پہ آج مل کے بیٹھے ہیں
یہاں پہ خدا جانے کل کو کیا ہو گا
یہ مہکتے ہوئے پل دھواں دھواں ہونگے
یہی چمکتا ہوا دن بجھا بجھا ہو گا
لہو رلائے گا یہ دھوپ چھاؤں کا منظر
جس سمت بھی دیکھو گے جھٹپٹا ہو گا
بچھڑنے والے تجھے دیکھ دیکھ سوچتا ہوں
تو پھر ملے گا تو کتنا بدل گیا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






