محبت ہو گئی تو کیا کرو گے

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

تماشہ عشق کا دیکھا کرو گے
ذرا سی جان ہے کیا کیا کرو گے

ابھی باریک باتوں کو نہ چھیڑو
کھلونے توڑ کر رویا کرو گے

نہ آئے گاسکوں دن بھر تجھے پھر
اکیلے رات بھر تڑپا کرو گے

فریب زندگی میں کھو کے اکثر
ندی میں چاند کو ڈھونڈا کرو گے

کبھی مانگو گے سورج جگنوؤں سے
کبھی پھر تتلیاں پکڑا کرو گے

لگے گی خود فریبی اچھی عادت
کبھی آئینوں سے روٹھا کرو گے

کتابوں سے کرو گے دوستی بھی
جنوں میں ڈائری لکھا کرو گے

کسی کے نام کی لکھ لکھ کے نظمیں
ہجر کے کیف میں چوما کرو گے

لگے گا دل کہاں پھر دوستوں میں
یوں اپنے آپ کو تنہا کرو گے

نظر کے پیش وہ راہیں ہی ہونگی
پرندوں کا سفر سوچا کرو گے

حنا کی خوشبوئیں بے چیں کریں گی
گزرتے وقت سے شکوہ کرو گے

ابھی تاروں گلوں کلیوں سے کھیلو
کٹھن باتوں میں پڑ کر کیا کرو گے

Rate it:
Views: 938
05 Jan, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL