محبت ہو گئی تو کیا کرو گے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتماشہ عشق کا دیکھا کرو گے
ذرا سی جان ہے کیا کیا کرو گے
ابھی باریک باتوں کو نہ چھیڑو
کھلونے توڑ کر رویا کرو گے
نہ آئے گاسکوں دن بھر تجھے پھر
اکیلے رات بھر تڑپا کرو گے
فریب زندگی میں کھو کے اکثر
ندی میں چاند کو ڈھونڈا کرو گے
کبھی مانگو گے سورج جگنوؤں سے
کبھی پھر تتلیاں پکڑا کرو گے
لگے گی خود فریبی اچھی عادت
کبھی آئینوں سے روٹھا کرو گے
کتابوں سے کرو گے دوستی بھی
جنوں میں ڈائری لکھا کرو گے
کسی کے نام کی لکھ لکھ کے نظمیں
ہجر کے کیف میں چوما کرو گے
لگے گا دل کہاں پھر دوستوں میں
یوں اپنے آپ کو تنہا کرو گے
نظر کے پیش وہ راہیں ہی ہونگی
پرندوں کا سفر سوچا کرو گے
حنا کی خوشبوئیں بے چیں کریں گی
گزرتے وقت سے شکوہ کرو گے
ابھی تاروں گلوں کلیوں سے کھیلو
کٹھن باتوں میں پڑ کر کیا کرو گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






