مدت سے میں اک حرف خزاں ڈھونڈ رہی ہوں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

مدت سے میں اک حرف خزاں ڈھونڈ رہی ہوں
خوابیدہ پرندوں کے نشاں ڈھونڈ رہی ہوں

کیا چیز ہے دل بھی کہ میں صحرا کے صفر میں
سرسبز درختوں کے نشاں ڈھونڈ ررہی ہوں

اب تو ہے نہ بستی ہے نہ رستہ نہ مسافر
جلتے ہوئے خوابوں کا دھواں ڈھونڈ رہی ہوں

لفطوں سے کوئی عکس تراشا ہت تو پھر اب
لحموں کی تجارت میں زباں ڈھونڈ رہی ہوں

اک عمر گزاری ہے تو قدموں کے نشاں سے
خوابوں کے شکتہ سے مکاں ڈھونڈ رہی ہوں

کچھ اور سفر ہیں مرے آگے سر خواہش
اے دوست تجھے اب میں کہاںڈھونڈ رہی ہوں

وہ خواب سی منزل ہے تو نینددوں میں ملے گی
میں جاگتی آنکھوں سے یہاں ڈھونڈ رہی ہوں

اے عمر سایہ بخت ذرا ٹھہر کہ اب میں
وشمہ جی حقیقت کے گماں ڈھونڈ رہی ہوں

Rate it:
Views: 70
06 Jan, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL