مدت سے میں اک حرف خزاں ڈھونڈ رہی ہوں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

مدت سے میں اک حرف خزاں ڈھونڈ رہی ہوں
خوابیدہ پرندوں کے نشاں ڈھونڈ رہی ہوں

کیا چیز ہے دل بھی کہ میں صحرا کے صفر میں
سرسبز درختوں کے نشاں ڈھونڈ ررہی ہوں

اب تو ہے نہ بستی ہے نہ رستہ نہ مسافر
جلتے ہوئے خوابوں کا دھواں ڈھونڈ رہی ہوں

لفطوں سے کوئی عکس تراشا ہت تو پھر اب
لحموں کی تجارت میں زباں ڈھونڈ رہی ہوں

اک عمر گزاری ہے تو قدموں کے نشاں سے
خوابوں کے شکتہ سے مکاں ڈھونڈ رہی ہوں

کچھ اور سفر ہیں مرے آگے سر خواہش
اے دوست تجھے اب میں کہاںڈھونڈ رہی ہوں

وہ خواب سی منزل ہے تو نینددوں میں ملے گی
میں جاگتی آنکھوں سے یہاں ڈھونڈ رہی ہوں

اے عمر سایہ بخت ذرا ٹھہر کہ اب میں
وشمہ جی حقیقت کے گماں ڈھونڈ رہی ہوں

Rate it:
Views: 74
06 Jan, 2026
More Sad Poetry