مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: رابعہ انجم, Abbottabadمسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
دل کسی کا مگر نہ دکھا کر چلو
جس کی خوشبو جہاں میں ہمیشہ رہے
پھول ایسا چمن میں کھلا کر چلو
جس سے سارے جہاں میں اجالا رہے
دیپ ایسا کوئی اک جلا کر چلو
کامیابی فقط رب کے ہاتھوں میں ہے
تم وسیلوں کو بس آزما کر چلو
بند آنکھوں سے تم پر کریں سب یقیں
اپنا ایسا بھروسہ بنا کر چلو
زندگی خوبصورت لگے گی تمھیں
رنجشیں اپنے دل سے بھلا کر چلو
سرحدیں نفرتوں کی مٹا کر سبھی
راستے پریم کے تم بنا کر چلو
ہو گئے ہیں مقلد جو شیطان کے
ان سے راہیں تم اپنی جدا کر چلو
جس نے ہر شے سے دیپک نوازا تمھیں
راہ میں سب اسی کی لٹا کر چلو
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






