مسکرانے کو چاہئے کچھ تو
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreمسکرانے کو۔۔۔۔۔ چاہئے کچھ تو
غم مٹانے کو۔۔۔۔ چاہئے کچھ تو
نہ سہی گل کوئی کلی ہی۔۔۔ سہی
زخم کھانے کو ۔۔۔چاہئے کچھ تو
گر نہیں چاند چاندنی۔۔۔ ہی سہی
جی جلانے کو ۔۔۔۔چاہئے کچھ تو
وہ تو غفلت شعار ہیں۔۔ اے دل
بھول جانے کو ۔۔۔چاہئے کچھ تو
اَپنی نظروں ہی کا ۔۔سہارا دے
غم اُٹھانے کو۔۔۔ چاہئے کچھ تو
اَپنی تصویر ہی مجھے ۔دے دے
گھر سجانے کو ۔۔۔چاہئے کچھ تو
نالہءِ غم اُنہیں پسند۔۔۔۔ نہیں
نغمہ گانے کو ۔۔۔۔چاہئے کچھ تو
اُن کی آنکھوں کا واسطہ۔ ساقی
ڈوب جانے کو ۔۔چاہئے کچھ تو
کاسہءِ دل نکال۔۔۔ سینے سے
مے پلانے کو۔۔۔ چاہئے کچھ تو
بو رہا ہوں میں ۔خون کے آنسو
گل کھلانے کو۔۔۔ چاہئے کچھ تو
در تیرا چھوڑ کر۔۔ کہاں جائیں
سر جھکانے کو ۔۔۔چاہئے کچھ تو
عشق میں ہم نہیں زیادہ طلب
دل لگانے کو ۔۔۔چاہئے کچھ تو
زہر بھی مفت میں ۔نہیں ملتا
زہر کھانے کو۔۔ چاہئے کچھ تو
گھر بُلا کرتُو گالیا ہی ۔۔۔دے
اِس دیوانے ۔۔ چاہئے کچھ تو
بن کے بیٹھو ہوسنگِ راہ وسؔیم
راہ دکھانے کو ۔چاہئے کچھ تو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






