مشغلے جن کے کھیل ہوتے ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمشغلے جن کے کھیل ہوتے ہیں
اس لیے ہی وہ فیل ہوتے ہیں
خوف آتا ہے اس لیے ہی وہاں
چور ڈاکو تو جھیل ہوتے ہیں
جب مصیبت میں ہو کوئی انساں
رات دن پھر طویل ہوتے ہیں
اس لیے تو غریب ہیں پیچھے
سستے داموں یہ سیل ہوتے ہیں
اس لیے جیت جاتے ہیں ان سے
میرے مرغے اصیل ہوتے ہیں
دوڑ بیلوں کی اس لیے جیتے
داجلی ان کے بیل ہو تے ہیں
پیار ملتا نصیب سے ہی ہے
اب تو مشکل سے میل ہوتے ہیں
آسمانوں پہ بنتے ہیں جوڑے
سب نصیبوں کے کھیل ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry






