مشغلے جن کے کھیل ہوتے ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمشغلے جن کے کھیل ہوتے ہیں
اس لیے ہی وہ فیل ہوتے ہیں
خوف آتا ہے اس لیے ہی وہاں
چور ڈاکو تو جھیل ہوتے ہیں
جب مصیبت میں ہو کوئی انساں
رات دن پھر طویل ہوتے ہیں
اس لیے تو غریب ہیں پیچھے
سستے داموں یہ سیل ہوتے ہیں
اس لیے جیت جاتے ہیں ان سے
میرے مرغے اصیل ہوتے ہیں
دوڑ بیلوں کی اس لیے جیتے
داجلی ان کے بیل ہو تے ہیں
پیار ملتا نصیب سے ہی ہے
اب تو مشکل سے میل ہوتے ہیں
آسمانوں پہ بنتے ہیں جوڑے
سب نصیبوں کے کھیل ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






