منزلیں محبت کی خود بخود نہیں ملتیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillوقت کے بکھیڑوں سے الجھنا تو پڑتا ہے
زندگی کی زلفوں کو کھولنا تو پڑتا ہے
مجھ کو تم سے الفت ہے ۔ بد گمانیاں کیسی
ہر کھلی حقیقت کو مانننا تو پڑتا ہے
لہر کے تھپیڑوں پر تو صدف نہیں ملتے
سیپ کو سمندر میں ڈوبنا تو پڑتا ہے
کب تلک کوئی روکے وحشتوں کی شدت کو
آنسوؤں کو پلکوں سے چھلکنا تو پڑتا ہے
کیا میری حقیقت ہے کیا ہے آرزو میری
آپ سے مخاطب ہوں سوچنا تو پڑتا ہے
منزلیں محبت کی خود بخود نہیں ملتیں
درد کے جھروکوں میں جھانکنا تو پڑتا ہے
سحر کے حسیں جلوے اسقدر نہیں آساں
رات بھر ستاروں کو جاگنا تو پڑتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






