گلبدنی
Poet: Khalid Roomi By: Jibran Younis, Rawalpindiیہ سامنے آنکھوں کے جو نازک بدنی ہے
پھولوں کی جوانی ہے، بہار چمنی ہے
اک مرمریں پیکر ہے، غزال ختنی ہے
ہلچل ہے بپا، خلق کی جانوں پہ بنی ہے
تصویر نزاکت کی یہ، اللہ غنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
محشر کی ہے تصویر، ہلاکت کا ہے نقشہ
قامت کا خد و خال، قیامت کا ہے نقشہ
نظارہ جو اس رخ کا تلاوت کا ہے نقشہ
شوخی ہے، سراپا میں رعونت کا ہےنقشہ
زنجیر حوادث کی، یہی زلف گھنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی پے
انفاس کی خوشبو سے گلستاں ہیں معبر
ابرو جو کماں دار تو مژگاں بھی ہیں نشتر
چہرے کی تجلی سے پشیماں مہ و اختر
جلوے ہیں قیامت تو خد و خال ہیں محشر
شوخی ہے، طبیعت میں بھری نیش زنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
گلشن کی جوانی کو مسلتے ہوئے آئے
لہروں کی طرح جوش میں بپھرے ہوئے آئے
جھنڈے وہ رعونت کے یوں گاڑے ہوئے آئے
دل زلف کی زنجیر میں باندھے ہوئے آئے
ہر دانت پری وش کا عقیق یمنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
آتی ہیں جسے دیکھ کے پھولوں کو حیائیں
زلفوں سے ہوں شرمندہ یہ گھنگھور گھٹائیں
بلبل کے ترنم میں ہیں خاموش ثنائیں
تارے جو تصدق ہیں، تو لے چاند بلائیں
رونق میرے گلشن کی وہ عنبر دہنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
رخسار کی گرمی کا بیاں کس سے ہو ممکن؟
جبریل بھی دیکھے جو کہیں آج وہ کمسن
ایماں کا نہیں اس کے اے زاہد ! کوئی ضامن
الحاد کے عالم میں رہے کیسے وہ مومن؟
ہر ایک ادا باعث ایماں شکنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
نغمے ہیں نہاں حسن ترنم میں ہزاروں
طوفان حوادث ہیں تبسم میں ہزاروں
ڈوبے انھی جلوؤں کے تلاطم میں ہزاروں
گم اہل خرد دیکھے تکلم میں ہزاروں
لہجے میں عجب موجہ شیریں سخنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
چہرے کے خط و خال کی ہے دھار نرالی
دنیا کے خطیبوں سے ہے گفتار نرالی
ہونٹوں پہ ہے انکار کی تکرار نرالی
بجتی ہوئی پازیب کی جھنکار نرالی
سر تا بہ قدم نور کی چادر سی تنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
فرہاد فدا، قیس ہے انداز کے صدقے
دنیا کے پری زاد ہیں اس ناز کے صدقے
جو بلبل شیراز ہے آواز کے صدقے
تو خضر و مسیحا لب اعجاز کے صدقے
یہ جنبش لب ہی مری تقدیر بنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
ذرے انھی گلیوں کے زمانے میں ہیں پکھراج
ہو سلطنت حسن کا درکار جسے راج
جا کر ہو کسی ناز کے پیکر کا وہ محتاج
صد شکر کہ رومی ہے ملا رنگ نصیر آج
رگ رگ میں رچی عاشق و برہمنی ہے
کیا گلبدنی، گلبدنی، گلبدنی ہے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






