ناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا۔۔۔
Poet: Rabica Akram By: Rabica Akram, Riyadh,K.S.Aناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا
وہ جو ہمیشہ فلک کی جانب دیکھا کرتا تھا
اس شخص کو فقط اپنے خوابوں میں
میں اکثروبیشتر ملا کرتا تھا
کیا قربت تھی اس کی دعاؤں میں
میری آنکھ سے ندامت کا آنسو گرا کرتا تھا
کھویا رہتا تھا ہمیشہ کن خیالوں میں وہ
میں اکثر یہ غور کیا کرتا تھا
گھنٹوں گزارا کرتا تھا وہ خاموشیوں میں
جانے تنہائی میں کسے ڈھونڈا کرتا تھا
نماز میں کھڑے، سجدوں میں اسے گرتے دیکھا صرف
کیا وہ ہم میں سے ہے میں یہ گماں کیا کرتا تھا
اشک بہاتے ہوئے، کبھی لرزتے ہوے دیکھا اس کو
اور کبھی میں اسے بڑا مطمئین دیکھا کرتا تھا
وقت بدلتا گیا موسموں کی مانند
مگر اسے میں ہمیشہ ٹھرا ہوا ہی دیکھا کرتا تھا
اک دن آیا چل دیا اس دنیا سے وہ
شاید پالیا تھا اس نے جسے وہ تلاش کیا کرتا تھا
ناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا
وہ جو ہمیشہ فلک کی جانب دیکھا کرتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







