ناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا۔۔۔

Poet: Rabica Akram By: Rabica Akram, Riyadh,K.S.A

ناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا
وہ جو ہمیشہ فلک کی جانب دیکھا کرتا تھا

اس شخص کو فقط اپنے خوابوں میں
میں اکثروبیشتر ملا کرتا تھا

کیا قربت تھی اس کی دعاؤں میں
میری آنکھ سے ندامت کا آنسو گرا کرتا تھا

کھویا رہتا تھا ہمیشہ کن خیالوں میں وہ
میں اکثر یہ غور کیا کرتا تھا

گھنٹوں گزارا کرتا تھا وہ خاموشیوں میں
جانے تنہائی میں کسے ڈھونڈا کرتا تھا

نماز میں کھڑے، سجدوں میں اسے گرتے دیکھا صرف
کیا وہ ہم میں سے ہے میں یہ گماں کیا کرتا تھا

اشک بہاتے ہوئے، کبھی لرزتے ہوے دیکھا اس کو
اور کبھی میں اسے بڑا مطمئین دیکھا کرتا تھا

وقت بدلتا گیا موسموں کی مانند
مگر اسے میں ہمیشہ ٹھرا ہوا ہی دیکھا کرتا تھا

اک دن آیا چل دیا اس دنیا سے وہ
شاید پالیا تھا اس نے جسے وہ تلاش کیا کرتا تھا

ناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا
وہ جو ہمیشہ فلک کی جانب دیکھا کرتا تھا

Rate it:
Views: 718
11 Apr, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL