میرے دل کے کچے آنگن میں پختہ سی خواہش جاگی ہے

Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar , Jalal Pur Jattan, Gujrat

میرے دل کے کچے آنگن میں پختہ سی خواہش جاگی ہے
گیلی مٹی پہ جیسے ایک پودا لپٹا رہتا ہے
اُ س مٹی کا کچھ حصہ پودے میں زندہ رہتا ہے
میں چاہوں تو بھی آجائے اور مجھ میں کہیں سما جائے
ہوں سانسیں مہکی مہکی سی، روحیں ایک دوجے میں ٹھہری سی
جسم ہمارے یکساں ہو ں
تو مجھ میں کہیں پر کھو جائےِ میں تجھ میں کہیں پر کھو جاؤ ں
محبت میں ہم یوں بہک جائیں
میں تجھ میں کہیں پر رہ جاؤ ں ، تو مجھ میں زندہ رہ جا ئے
میں چاہوں تجھ کو پانا اس طرح
میں ٹھہرں کافر دل کی بستی کا ، تو میرا خدا بن جائے
میں چاہوں تجھ کو اتنا کہ اپنے ساتھ لیے پھروں
تیرے وجود کی مہکتی خوشبو
میرے گھر کا کچا یہ ٓانگن یو ں مہک جائے
میرے دل کے سونے آنگن کی یہ خواہش پوری ہو جائے
میں دے دوں تجھ کو تخت وتاج الگ
جیسے کافر کا ہو خدا الگ
میرے دل کے کچے آنگن میں پختہ سی خواہش جاگی ہے

Rate it:
Views: 446
04 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL