میں نے کب ایسا چاھا ھے

Poet: aman wasim arbi By: wasim rb, multan

میں نے کب ایسا چاھا ھے کہ مجھ کو ٹوٹ کر چاھے
میں کب اس سے یہ کہتا ھوں کہ صرف میرے ھی گن گائے

میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس وہ آئے
میں تو بس اتنا کہتا ھوں کہتا ھوں کہ مجھ سے دور نہ جائے

میری یادوں کی چادر کو پھیلادے اپنی راتوں میں
میری تصویر کو پھر چوم کر سینے سے لگائے

کبھی جو مجھ سے ملنا ھو تو گھر سے تب ھی وہ نکلے
اور نکلے گھر سے وہ جس دن تو چہرے کو بھی چھپائے

مٹا دے ان کی یادوں کو جو اس سے پیار کرتے تھے
کسی نے اس کو لکھے ھوں وہ سارے خط بھی جلائے

بس اتنا ھے کہ وہ جب بھی لکھے میرے لیے لکھے
اور پھر ھر شام وہ اپنا کلام مجھ کو ھی سنائے

سنائے نہ کسی دوجے کو اپنا حال دل قطعا‏"‏
کہ جس دن ایسا ھونا ھو خدا وہ دن نہ دکھائے

وسیم اتنا میں کہتا ھوں کہ مجھ سے دوستی کرلے
میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ مجھکو ٹوٹ کر چائے

Rate it:
Views: 544
12 Dec, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL