نجانے وہ آئینے سے نظریں کیسے ملاتا ہو گا
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF(Lucky) , K.S.Aنجانے وہ آئینے سے نظریں کیسے ملاتا ہو گا
میری آنکھوں سے خود کو دیکھ کہاں پاتا ہو گا
دل کی بات جو دل ہی میں رہ گئی
نجانے وہ بیٹھ کر اب کہاں گاتا ہو گا
میری آرزوں کی شام جو ڈھلتی رہی
میری خواہشیوں کو وہ کہاں سمجھاتا ہوگا
مددتوں کی رفاقت اک پل میں توڑ کر
مصروف زندگی میں مجھے یاد کہاں کرتا ہوگا
میرا دل جو ہر لمحے ُاس کی طلب کرئے
لیکن میرے لیے وہ جیتا کہاں مرتا ہو گا
چھوڑ دیے یوں تو ہر رابطے ُاس سے مگر
میرے انتظار میں وہ پلکیں کہاں بیچھاتا ہوگا
کبھی غصے ، کبھی مذاق ، کبھی ویسے ہی
میری طرح بھلا اب کس کو کہاں ستاتا ہوگا
لکی ! کوئی منانے نہیں آئے گا اب ُاسے
شاید اس لیے وہ کسی کو چھوڑ کر کہاں جاتا ہوگ
More Love / Romantic Poetry






