و ہ مسکر ا نے و ا لا لڑکا , سا د ہ سی و ہ لڑ کی
Poet: Humaira Hammad By: Humaira Hammad, Gujranwalaوہ بےتحاشاہنسنےوالالڑکا,خاموش نگاہوں والی وہ لڑکی
بڑے شہرکا مکین وہ ,چھو ٹےشہرکی معصو م وہ لڑکی
جا نے کیسے قر یب آ گئے د و نو ں ا ک د و سر ے کے
ا لجھ گئی و قت کی سا ز ش میں پھر و ہ لڑ کی
جکڑتی گئی ز نجیر محبت کی ٹوٹ گئے سپنے فردا کے
سر گھٹنو ں پہ ر کھ کر ر ا ت بھر روتی رہی و ہ لڑ کی
د یو ا نہ تھا نئے چہر و ں کا ڈ ھو نڈ تا تھا محبت کہیں
سب کچھ بھو ل گیا بس ا ک یا د ر ہ گئی و ہ لڑ کی
و قت ہجر آ یا جب د و نو ں کے د ر میا ں پھر
ر ہا قا ئم ا پنے و عدے پہ وہ پر بھٹک گئی تھی و ہ لڑ کی
کیسے ر و یا ٹو ٹ ٹو ٹ کر سب کو ہنسا نے و ا لا
ساری دنیا پگھل گئی بس ا ک نہ مو م ہو ئی و ہ لڑ کی
وقت جو گز را تو ا حسا س ز یا ں ہو ا,د ل ما تم کنا ں ہوا
اس کے گلے لگ کر کتنی دیر آنسو بہاتی رہی و ہ لڑکی
حمیرا سنا ہے بڑ ے خو ش ہیں ا ک د و جے کو پا کر
و ہ مسکر ا نے و ا لا لڑکا , سا د ہ سی و ہ لڑ کی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






