ورنہ میرے دل میں تمہارے بہت ٹھکانے تھے
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky) , Jeddahتیری راہوں میں دیپ جلانے تھے
چپکے سے مجھے آنسو بہانے تھے
نا چاہیتے ہوئے بھی اک موڑ پر
آخر مجھے اپنے آزمانے تھے
تیری دلگی پر قربان سب کچھ کر دیا
اب غمیں زیست سے مجھے نشان مٹانے تھے
واہ تیرے اپنے بھی تیرے جیسے نکلے
قدرت نے مجھے ایسے دن بھی دیکھانے تھے
خواشیوں کا سمندر کب صحرا بن گیا ؟
جینے کی خاطر مجھے زہر کے گھونٹ پلانے تھے
چلو اچھا ہوا تمہارا چہرہ تو سامنے آیا
ورنہ میرے دل میں تمہارے بہت ٹھکانے تھے
کیوں اور کس بات کا شکوہ کروں کسی سے
ظالم نے مظلوم پر ہی تو تیر چلانے تھے
لکی نہیں سکت اتنی کے اور غم سہا جائے
نفس سے مجھے زندگی کے ارمان مٹانے تھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






