وعدوں پہ اب کسی کے نہ کرنا تو اعتبار
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanوعدوں پہ اب کسی کے نہ کرنا تو اعتبار
دھوکے دل ناداں تجھے ملتے ہیں بار بار
اک بار جو اجڑتا ہے ہجر و فراق سے
برسوں پھر اس چمن میں آتی نہیں بہار
نہر فرات پر پڑے پیاسے کئی رہے۔۔
برسات میں سلگتے دیکھے ہیں لالہ زار
آ جائے ایک بار جو الفت کے دام میں
رہتا نہیں کسی کا بھی پھر دل پہ اختیار
رکھے ہوئے ہیں غم کو چھپا کر نشاط میں
ایسے بھی اہل دل یہاں پھرتے ہیں بیشمار
بیٹھے ہوئے ہو چھوڑ کر کیوں بام و در کھلے
زریں کس کا آج بھی کرتے ہو انتظار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






