وہ جسے چاہے بےثمر کردے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiوہ جسے چاہے بے ثمر کر دے
اپنے ہی گھر سے دربدر کر دے
مانگتے ہیں یہی دعا رب سے
ان کے ہاتھوں کو معتبر کردے
سامنے میرے رو برو ہو بات
بے تحا عشق اس قدر کر دے
ساتھ دیتے نہیِں ہیِں لفظ مرے
اس سے بہتر ہے بے ہنر کر دے
کب سے روشن دیا نہیں کیا ہے
میرے آنگن میں اب سحر کردے
ختم غربت ہو جائے دنیا سے
اپنی رحمت کی اک نظر کر دے
آپ جیسا شفیق کوئی نہیں
سب گنہ میرے درگزر کر دے
کوئی شہزاد نہ غریب رہے
ایسا ممکن ہے رب اگر کر دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






