کوئی بھی پیشہ نہیں اختیار کرنا تھا
Poet: اےبی شہزاد By: AB shahzad, Mailsiکوئی بھی پیشہ نہیں اختیار کرنا تھا
کسی بہانے سمندر کو پار کرنا تھا
نہیں بتائی حقیقت چھپا لیا ہے سب
یہی ہے سچ اسے بے لوث پیار کرنا تھا
سوائے اس کے نہیں پاس تھا کوئی چارہ
ہر حال میں اسے تو اعتبار کرنا تھا
نصیب ایسے غریبوں کے ہوتے ہیں صاحب
اگر نہ آتے ابھی انتظار کرنا تھا
رقیب میرا تو بزدل تھا اس لیے شہزاد
یہ لازمی تھا کہ پیچھے سے وار کرنا تھا
اےبی شہزادکوئی بھی پیشہ نہیں اختیار کرنا تھا
کسی بہانے سمندر کو پار کرنا تھا
نہیں بتائی حقیقت چھپا لیا ہے سب
یہی ہے سچ اسے بے لوث پیار کرنا تھا
سوائے اس کے نہیں پاس تھا کوئی چارہ
ہر حال میں اسے تو اعتبار کرنا تھا
نصیب ایسے غریبوں کے ہوتے ہیں صاحب
اگر نہ آتے ابھی انتظار کرنا تھا
رقیب میرا تو بزدل تھا اس لیے شہزاد
یہ لازمی تھا کہ پیچھے سے وار کرنا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






