وہ موسم کی پہلی نمی کی طرح

Poet: Mubashir Jameel khayali By: Mubashir Jameel , Karorpakka

وہ موسم کی پہلی نمی کی طرح
کبھی رات بھر کی کمی کی طرح
وہ آہستہ آ کر چھو جائے دل کو
کسی بند دل کی خوشی کی طرح

یہ خاموش لمحے، یہ مہکی ہوا
یہ پلک پہ ٹھہری کوئی التجا
محبت کا مطلب سمجھنے لگے
جو بے نام ہو، پھر بھی ہو آشنا

کبھی ایک جھلک، اور صدیوں کا خواب
کبھی دھڑکنوں میں چھپا ایک باب
جو لفظوں میں آئے، مگر کم لگے
یہ جذبہ ہی رکھتا ہے سارا حساب

وہ دستک، جو دل کے سکوتوں میں ہو
وہ خوشبو، جو ہر سانس سے گفتگو
نہ شرطیں، نہ وعدے، نہ دعوے، قسم
محبت فقط ہو، یہی ہے وضو

خیالی لکھے جو، وہ جملے نہیں
وہ آنکھوں سے بہتے ہوئے سلسلے
کہ جذبہ ہو سچا، تو کہنے کی کیا
محبت تو چپ میں بھی کہتی ِگلے

Rate it:
Views: 207
05 Feb, 2026
More Love / Romantic Poetry