وہ کر رہا تھا ستم بھی وفا کے لہجے میں

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

وہ کر رہا تھا ستم بھی دعا کے لہجے میں
میں ظلم سہ رہا تھا بس وفا کے لہجے میں

عجیب شخص تھا، زخموں کو پھول کہتا تھا
وہ بات کرتا رہا بس شفا کے لہجے میں

میں اس کے بعد بھی اس کو برا نہ کہہ پایا
وہ دل دکھا کے گیا تھا خدا کے لہجے میں

فریب ایسا کہ برسوں خبر نہ ہو پائی
وہ زہر گھول رہا تھا دوا کے لہجے میں

جو اپنے حق میں تھی ہر بات کہہ گیا ہنس کر
مگر سوال کیا اک سزا کے لہجے میں

کہا یہ اس نے مرے دل کو توڑ کر شہزاد
دعا میں یاد رکھوں گا وفا کے لہجے میں

Rate it:
Views: 0
27 Jun, 2026
More Love / Romantic Poetry