چاہت
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreتیرے ہاتھوں سے جام پینا چاہتے ہیں
تیرے ہو کر جینا چاہتے ہیں
ٹوٹے نہ کبھی خمار جس کا
ویسا نشہ تیرے پیار کا چاہتے ہیں
شام اور سویرا تو روز ہوتا ہے
ہم تو تیرے ساتھ رات طویل چاہتے ہیں
مہک جایں ہم تیری خشبو سے
اتنا تجھے اپنے قریب چاہتے ہیں
فاصلے حدیں سب پار ہو جایں
اس طرح سے تیرا پیار چاہتے ہیں
تڑپ جاے تو بھی ویسے
جیسے ہم تڑپتے ہیں
بکھر جاے تو بھی ویسے
جیسے ہم بکھرتے ہیں
سمیٹ لینا تم ہمیں
اور ہم تمہں سمیٹنا چاہتے ہیں
یوں ایک ہو جایں ایک دوسرے کا لباس بن جایں
پھر وہ لباس نہ تم اتارو
نہ ہم اتارنا چاہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






