کار دنیا میں وہ قاتل کو مسیحا سمجھیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا'زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں'
کار دنیا میں وہ قاتل کو مسیحا سمجھیں
کیسے گزرے گی ترے دل پہ ذرا سوچ تو لو
تیری دنیا کو اگر ہم بھی تماشا سمجھیں
جب بھی لوٹو گے مرے پاس چلے آؤ گے
کیا تری بات کو پھر ہم یہ دلاسہ سمجھیں
میرے اپنے ہیں سبھی دل میں بھڑکتے شعلے
ہم تو آتش کو ترے پیار کا تحفہ سمجھیں
وہ جو اڑتے ہیں فضاؤں میں پرندہ بن کر
کاش دھرتی پہ کسی ایک کو اپنا سمجھیں
جس نے بھی ہم کو برے وقت میں اپنا سمجھا
ہم کیوں اس ذات کو خود اپنے سے چھوٹا سمجھیں
کل جو کرتے تھے مری بات پہ ہر طرح یقیں
وہی غمغوار مجھے آج کیوں جھوٹا سمجھیں
میں نے تو پھول لگائے تھے سبھی راہوں میں
پھر بھی کچھ لوگ مجھے راہ کا کانٹا سمجھیں
آپ سمجھیں نا مرا حاصل ہے مرا رخت سفر
میرے ہمزاد کو قدرت کا کرشمہ سمجھیں
جن کو دعوی تھا محبت کی خدائی کا یوں
کاش وہ آج بھی اس وشمہ کو وشمہ سمجھیں
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ






