کالی رات دیکھ تیرا جوبن
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Guangxiبرکھا کی رم حھم بھیگے موسم تیری خوشبو سے مہک جاتے ہیں لوگ
نینوں سے چھلکے جو مدھرا تو بن پیۓ ہی بہک جاتے ہیں لوگ
کالی رات دیکھ تیرا جوبن تجھ میں سمٹ رہا ہے شام کا یہ حسین سحر
ادا ہے دیوانوں کی حسن بیمثال ہو تو آپ ہی مر مٹتے ہیں لوگ
شام تجھ میں ڈھونڈ رہا ہوں میں اپنا وہ کھویا عکس وہ رنگین نقش
صدیوں کی بات نہیں پاس آتے آتے پل میں کھو جاتے ہیں لوگ
حال نہ پوچھ میری تنہائ کا ہے بکھری یوں میرے مسکن میں
بکھرے جیسے مے ساغرسے جب جام سے جام ٹکراتے ہیں لوگ
اک میں ہی کیا یہاں تو ہر ذی نفس غم کی لہر میں ڈوب رہا ہے
زخموں کا تریاق ڈھونڈتے ہیں اور شراب غم پی جاتے ہیں لوگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






