کبھی کبھی تم بہت تنہا کر دیتے ہو
Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachiنا جانے کس غلطی کی سزا تم بار بار دے دیتے ہو
چاہا تو ہم نے تم کو خود سے بھی زیادہ
پھر بھی نا جانے کیوں تم ہر ایک بات پر روٹھ جاتے ہو
تمہاری ہر ایک خواہش کو سر آنکھوں رکھتے رکھتے
آج ہم نے خود کو خود کی ہی نظروں سے گرتا ہوا دیکھا
پھر بھی نا جانے کیوں تم اکثر ہم کو بہت رلا دیتے ہو
جب بھی میں تنہا ہوتی ہوں شفق
تو خود کو اُس کا ہم نوا سمجھتی ہوں
پھر بھی نا جانے کیوں اے ہم نوا
کبھی کبھی تم جدا جدا سے دیکھتے ہو
نا جانے کیوں کبھی کبھی تم ہم کو بہت تنہا کر دیتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






