کماحقہ ترے وہم و گماں سے بہتر ہوں
توسوچتا ہے غلط میں وہاں سے بہتر ہوں
زمانہ یاد مجھے رکھے گا یہ دیکھنا تم
تری میں دنیا ترے اس جہاں سے بہتر ہوں
ملنگ ہی ہوں میں توقیر ہے زمانے میں
ترے حسین میں تو نوجواں سے بہتر ہوں
لیا ہے مان کہ میں نے بھی پیار کیا ہے مگر
نہیں میں بدلا ہوں تیری دکاں سے بہتر ہوں
خزاں تو آکے چلی ہی گئی نہیں رویا
بہار آئی ہے پھر سے خزاں سے بہتر ہوں
کہ پوچھنا ہے مرے بارے پوچھ اور کسی سے
تو کہتا ہے مجھے پھر بھی کہاں سے بہتر ہوں
نکال دل سے دے رنجشیں بھلا دے باتیں وہ
میں کہتا پھر نہیں تیرے فلاں سے بہتر ہوں
تو آجا اور ہی کیچر اچھال دے شہزاد
خوشی سے زیست ہے گزری یہاں سے بہتر ہوں