کہہ رہی ہے مرے کانوں میں بشر کی صورت
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا"ہر بشر دیکھنے لگتا ہے بشر کی صورت "
کہہ رہی ہے مرے کانوں میں بشر کی صورت
حرف سچائی کے جب جب بھی مٹے ہیں دل سے
ڈھونڈ لیتی ہے اسے میری نظر کی صورت
ایسے غفلت کدہ میں آئے کہ ہم بھول گئے
وہ مجھے بھول گیا ہے تو ہنر کی صورت
زندگی کیا ہے مسائل کا خزانہ ہی تو ہے
اپنی خوشبو سے کوئی پھول نظر کی صورت
شمع جلتی ہے کسی اور کے غم میں لیکن
شام غم بیت گئی زیر اثر کی صورت
ٹوٹے حسرت کا منارہ تو کوئی فکر نہیں
کیسی مجبوری ہے اک بار خبر کی صورت
آنکھ کھلتے ہی عجب بات مرے ساتھ ہوئی
گم ہوا پھر مرے خوابوں کا نگر کی صورت
سانس لینی بھی ہے دشوار چمن میں وشمہ
آگئی ہوں تری چوکٹ پہ پیر کی صورت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






