کیا ملا ہے انور جی اپنا جی جلانے سے

Poet: Anwar Kazimi By: syed kazimi, mississauga, Canada

کیا ملا ہے انور جی اپنا دل جلانے سے
کیوں نہ دوستی کر لیں بے وفا زمانے سے

آپ کو جھجک سی ہے کیوں گلے لگانے میں
فاصلے تو مٹتے ہیں ، فاصلے مٹانے سے

مجھکو یاد کر کر کے کیوں اُداس رہتے ہو
کس نے تمکو روکا ہے مجھکو بھول جانے سے

جس جگہ بسے ہو تم، دل ہے ایک شاعر کا
اچھا ہے چلے جاوْ اِس غریب خانے سے

اسقدر تماشائے ضبطِ حال رہنے دو
بھید اور کھلتا ہے ا تنا مسکرانے سے

ایک بار تو رکھ لو تم بھرم محبت کا
ایک بار آ جاؤ تم مرِے بلانے سے

کیوں اُداس تھا سورج شام کے کنارے پہ
کیوں ہمارا دل ڈوبا اُسکے ڈوب جانے سے

جیسا بھی ستمگر ہو ، پر یہ بات ہے اُس میں
محفلوں میں رونق ہے اسکے آ نے جانے سے

اُس سے بھی کہو تھوڑی عاقبت سنوارے وہ
اور تم بھی باز آ ؤ جھوٹی قسمیں کھانے سے

کچھ تو بولئے صاحب، کیا کمی ہے جینے میں
کیوں اُداس رہتے ہیں آ پ اک زمانے سے

چھوڑ چھاڑ کر تجھکو کیوں چلی گئی دنیا
تنگ آ گئی ہو گی وہ ترے فسانے سے

شاعری میں انور جی کتنی ہوشیاری سے
اُس کی بات کرتے ہو سیکڑوں بہانے سے

اے مرِے نبی کیسا رشتہء عقیدت ہے
میرے دل کی چوکھٹ کا تیرے آ ستا نےسے

Rate it:
Views: 613
31 Dec, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL