گھر کی الجھن سے طبیعت یوں رہی الجھی ہوئی

Poet: فاروق نور By: فاروق نور, Burhanpur

گھر کی الجھن سے طبیعت یوں رہی الجھی ہوئی
ٹیبلوں پہ جیسے فائل شام تک بکھری ہوئی

آج سارا دن ہی اس نے منتشر رکھا مجھے
رات کی کڑواہٹوں سے چائے جو کڑوی ہوئی

وہ سڑک کے موڑ پر انسان تھا مرتا ہوا؟
یا تھی اس کے ساتھ میں انسانیت مرتی ہوئی

آپ کے کہنے سے کر لوں کیسے دنیا پہ یقیں
آپ بھی دیکھے ہوئے ہیں دنیا بھی دیکھی ہوئی

شہر چھوڑے اس کو تو برسوں ہوئے ہم آج بھی
دیکھتے ہیں ریل گاڑی دور تک جاتی ہوئی

خشک موسم میں وہ یوں شاداب رکھتی تھی مجھے
جیسے چڑھتی نیل سوکھے پیڑ سے لپٹی ہوئی

ننہے منّے پھول سارے ایک دم سے کھل گئے
دفعتاً کھنٹی بجی اسکول کی چھٹی ہوئی
گرمیوں کے دن لگے

تونے جو بھیجے تھے میسج اب بھی موبائل میں ہیں
سیو ہے تصویر ساری گیلری میں کی ہوئی

راستے بھر نور میرے ساتھ میں چلتے رہے
چہرہ وہ اترا ہوا سا آنکھ وہ بجھتی ہوئی

Rate it:
Views: 300
15 Jun, 2023
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL