ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaچپکے سے تُم اک دن آ نا کہہ دینا
یا پھر مجھ کو پاس بلا نا کہہ دینا
من کے اندر رکھی ہیں جو وہ باتیں
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
تُم نے مجھ کو یاد کیا تھا، بتلانا
دل کا گھر آباد کیا تھا، بتلانا
میری یاد میں آنسو کتنے آئے تھے
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
بے چینی سے کاٹی ہیں جو سب راتیں
آگ لگا کر گزری ساری برساتیں
حال وہ ساری سُلگی سُلگی راتوں کا
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
برسوں سے وہ طاق پہ رکھی سب باتیں
یادوں کے آفاق پہ رکھی سب باتیں
اُلٹی، سیدھی، اُلجھی، سُلجھی کیسی بھی
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
کب ڈوبا تھا سورج، چندا نکلا کب
کیا سوچا تھا پہلا تارا دیکھا جب
کوئی قصہ بھول نہ جانا یاد رہے
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
جاگ رہا ہوں، راگ میں آ کر کہہ دینا
سوتے میں اک خواب جگا کر کہہ دینا
مجھ پر تیرا زور تو سارا چلتا ہے
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
پاس پڑوس محلے اور سہیلی سے
دو سے، تین نہ چار نہ پانچ۔ اکیلی سے
وہ باتیں جو کرنا مشکل ہوتی ہیں
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
کلیوں، پھولوں، بھنوروں، رنگوں کی باتیں
شورش، جھگڑوں، جنگوں ،دنگوں کی باتیں
کچھ بھی ہو موضوع ، مجھے بس سُننا ہے
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
چپکے سے تُم اک دن آ نا کہہ دینا
مجھ کو یا پھر پاس بلا نا کہہ دینا
من کے اندر رکھی ہیں جو وہ باتیں
ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھاناکہہ دینا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






